پیشہ ورانہ صلاحیتوں، دیانتداری اور عوام دوست رویے کی بدولت محکمہ پولیس

میرپور آزاد کشمیر کے انتہائی قابل، فرض شناس اور ایماندار پولیس آفیسر مجتبیٰ صلاح الدین آغا اپنی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں، دیانتداری اور عوام دوست رویے کی بدولت محکمہ پولیس میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پولیس سروس کا آغاز بطور ASI 1993 میں کیا اور اپنی انتھک محنت، قابلیت اور شاندار کارکردگی کے باعث مختلف اہم عہدوں پر خدمات سرانجام دیں۔مجتبیٰ صلاح الدین آغا نے بطور SHO برنالہ اور SHO پنجراں اپنے فرائض انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دیے جہاں انہوں نے جرائم کے خاتمے، عوام کے مسائل کے حل اور امن و امان کی بحالی کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ASHO راولاکوٹ کے عہدے پر بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائیں اور عوامی حلقوں میں عزت و احترام حاصل کیا۔ان کی بہترین کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کے امن مشن میں بطور United Nations Peace Keeper خدمات انجام دینے کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جہاں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور آزاد کشمیر پولیس کا نام روشن کیا۔ اسی طرح وہ نیویارک میں UN Security Officer کے طور پر بھی اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں، جو ان کی قابلیت اور بین الاقوامی اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔مجتبیٰ صلاح الدین آغا نے برطانیہ میں Midlands اور Yorkshire پولیس کے ساتھ خصوصی وزٹ اور تربیت بھی حاصل کی، جس سے ان کی پیشہ ورانہ مہارتوں میں مزید نکھار آیا۔ جدید پولیسنگ، تفتیشی امور اور عوامی تحفظ کے حوالے سے ان کی تربیت کو محکمہ پولیس میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔انہوں نے آئی جی پی آفس میں بطور Staff Officer بھی خدمات انجام دیں جہاں انتظامی معاملات میں ان کی صلاحیتوں کو بے حد سراہا گیا۔ بعد ازاں انہیں SP Anti Corruption میرپور تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے کرپشن کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے ذریعے اپنی ایمانداری اور جرات کا لوہا منوایا۔اس وقت مجتبیٰ صلاح الدین آغا بطور Additional SP میرپور اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور میرپور کے عوام ان کی بہترین کارکردگی، شائستہ رویے اور انصاف پسندانہ اقدامات کو بے حد سراہتے ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ صلاح الدین آغا جیسے ایماندار اور فرض شناس افسر محکمہ پولیس کا قیمتی سرمایہ ہیں جن کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ایس ایس پی باغ سید عباس علی نے اپنے آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ,


جس میں انہوں نے صحافی حضرات کو 19 فروری 2026 کو ریڑہ بازار میں ایک دکان پر ہونے والی چوری کی واردات کے بعد پولیس ٹیم کی کارگزاری کے حوالے سے آگاہ کیا۔
ایس ایس پی باغ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ 19 فروری کو ہمیں ایک درخواست موصول ہوئی جس میں درخواست گزار نے بتلایا کہ اس کی ہارڈوئیر کی دکان پر نامعلوم سارقان نے نقب لگا کر نقدی رقم مبلغ 1450000 روپے چوری کر لیے ہیں جس پر مقدمہ نمبر 57/26 رجسٹر کرکے تفتیش کا آغاز کیا گیا ۔ گزشتہ اڑھائی ماہ سے اس پر تفتیش کا عمل جاری تھا جس پر باغ تعینات ہونے پر میں نے ایک نئی پولیس انویسٹیگیشن ٹیم DSP ہیڈکوارٹر باغ فیض الرحمان عباسی کی نگرانی میں بنائی جس میں si گوہر عارف انچارج CiA, غلام مصطفیٰ ، وقار حمید ، حسنین شاہ کنسٹیبلان شامل ہیں جنہوں نے شبانہ روز کی محنت اور مختلف جدید ذرائع کے استعمال سے ملزمان محمد اسحاق ولد محمد روشن، تصویر حسین ولد غلام حسین ، وحید عالم ولد عالم حسین ساکنان بھاٹہ کوٹ تحصیل ممتاز آباد کوٹریس کر کے گرفتار کرتے ہوئے مسروقہ رقم مبلغ 1450000 روپے برامد کر لی۔ ملزمان سکریپ کا کام کرتے تھے اور ریڑہ میں ہی ایک مکان کرائے پر لے کر رہائش پذیر تھے ۔جنہوں نے مکمل منصوبہ بندی کر کے گھر سے ہتھوڑے لاکر دکان کی عقبی کھڑکی کو توڑ کر اندر داخل ہو کر رقم چُرائی۔
ایس ایس پی باغ نے تفتیشی ٹیم کو تعریفی سرٹیفکیٹس عطا کیے ۔
اس موقع پر انہوں نے تاجران کےنام اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اپنی دکانوں پر اچھے لاک لگائیں ، نقدی رقم اورجیولری کو کسی مضبوط سیف میں محفوظ کریں تاکہ چوری کی وارداتوں میں کمی آئے۔ ترجمان پولیس باغ

اللہ گواہ میری عنایہ کو پرائیویٹ ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نےغلط انجنکشن لگا کر میرے پھول کو مار دیا

اللہ گواہ میری عنایہ کو پرائیویٹ ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر نےغلط انجنکشن لگا کر میرے پھول کو مار دیا لیکن میرے رب کا فیصلہ تھا آج میری عنایہ کی رات قبر میں تھی میں نے اپنی بیٹی کے لے خاموشی سے معاف کیا آپ میری عنایہ کے لے اور میرے صبر کے لے دعا کرنا میرا پھول چلا گیا اللہ پاک ان ڈاکٹروں کو ہدایت دے۔میری بیٹی کو غلط ٹیکا لگا کر مجھے اور میری فیملی کو ساری ذندگی کے رونا دےدیا۔
نصیر اکبر چودھری

سی ایم ایچ کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی

مظفرآباد سی ایم ایچ کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گئی، وجہ موبائل فون چارجنگ بتائی جارہی ہے

سی ایم ایچ مظفرآباد کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی اچانک آگ کی لپیٹ میں آ کر مکمل طور پر جل گئی۔
گاڑی ایک شہری کی ملکیت تھی جو پارکنگ میں کھڑی تھی اور اس میں موجود موبائل فون چارجنگ پر لگا ہوا تھا، جس کے باعث آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔
خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔